حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، صوبہ سندھ کے شہر خیرپور میرس میں تکفیریوں کی جانب سے 11 محرم کو گستاخی کے واقعے کے خلاف شیعہ علماء کونسل پاکستان سندھ کے صوبائی صدر علامہ سید اسد اقبال زیدی کی اپیل پر سندھ بھر میں گستاخی کے واقعے کے خلاف احتجاجی ریلیاں اور مظاہرے منعقد کیے گئے۔
مرکزی احتجاجی ریلی اور دھرنا خیرپور میرس میں خاکی شاہ پل سے مریم توپ، ایس پی آفس تک منعقد ہوا، جس میں بڑی تعداد میں کارکنوں اور عوام نے شرکت کی۔
احتجاجی دھرنے کے دوران مقررین نے مطالبہ کیا کہ گستاخی کے واقعات میں ملوث عناصر کے خلاف قانون کے مطابق فوری کارروائی عمل میں لائی جائے۔ سندھ بھر میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں اور اعلیٰ سطحی رابطوں کے نتیجے میں ضلع خیرپور کی تحصیل ٹھری میرواہ، ہنگورجا اور کولاب جئیل سے تعلق رکھنے والے چار افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کیے جانے کے بعد احتجاجی دھرنا اختتام پذیر ہوگیا۔
احتجاجی ریلی اور دھرنے سے شیعہ علماء کونسل پاکستان کے مرکزی نائب صدر استاد العلماء علامہ سید ارشاد حسین نقوی، صوبائی صدر سندھ علامہ سید اسد اقبال زیدی، ضلعی صدر خیرپور مولانا ظہور حسین روحانی اور ضلعی نائب صدر خیرپور مولانا انصار ثقلین مشہدی نے خطاب کیا۔ تقریب کے اختتام پر شیعہ علماء کونسل پاکستان خیرپور کے ضلعی نائب صدر مولانا عطا محمد باقری نے دعا خیر کرائی۔
واضح رہے کہ 11 محرم 1448ھ کو خیرپور میں کالعدم تکفیری جماعت نے ریلی نکال کر عزاداروں کے گھروں پر حملے کیے، خواتین پر تشدد کیا اور سبیل امام حسین (ع) کو نقصان پہنچایا تھا۔









آپ کا تبصرہ